نئی دہلی، 30 جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) دنگل گرل سے مشہور اداکارہ زائرہ وسیم اچانک سرخیوں میں ہیں اور اس کی وجہ ان کا سوشل میڈیا پر کیا گیا پوسٹ ہے۔دراصل سپر اسٹار آف فیم نیشنل ایوارڈ یافتہ اداکاراہ زائرہ وسیم نے لکھا کہ وہ بالی ووڈ کو الوداع کہہ رہی ہیں۔بتانے کی ضرورت نہیں کہ جلد ہی دی اسکائی از پنک میں نظر آنے والی زائرہ وسیم کا شمار بالی وڈ کی باصلاحیت اداکارہ میں ہوتا ہے۔ان کے اچانک ایکٹنگ کو چھوڑنے کے اعلان سے فلم انڈسٹری حیران ہیں۔ادھر پورے معاملے پر زائرہ کے منیجر کی صفائی بھی آ گئی ہے۔
زائرہ وسیم نے لکھاکہ 5 سال پہلے میں نے ایک ایسا فیصلہ لیا، جس نے میری زندگی کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا،میں نے جیسے ہی بالی ووڈ میں قدم رکھا، میرے لئے مشہور ہونے کے کئی راستے کھل گئے، مجھے لاکھوں توجہات ملنے لگی،کئی بار مجھے نوجوانوں کا رول ماڈل بھی مانا گیا،اگرچہ یہ سب وہ نہیں تھا، جس کی میں نے خواہش کی تھی،خاص طور پر کامیابی کی اورشہرت کو لے کر۔اداکارہ نے لکھاکہ آج مجھے بالی ووڈ میں 5 سال پور ہو گئے ہیں،میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں اپنی اس شناخت اور جو کام میں کر رہی ہوں میں اس سے خوش نہیں ہوں،طویل وقت سے مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں نے کچھ دوسرا انسان بننے کی جدوجہد میں مصروف ہوں،مجھے اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ جن چیزوں کو میں وقت دے رہی ہوں، جن چیزوں کے لئے محنت کر رہی ہوں اور جو نئی طرز زندگی اپنانے کی کوشش کر رہی ہوں، ان تمام چیزوں میں میں فٹ تو ہو سکتی ہوں، مگر میں ان چیزوں کے لیے نہیں بنی ہوں۔
زائرہ نے لکھاکہ اس علاقے (فلمی دنیا) نے واقعی مجھے بہت محبت، حمایت اور تعریف دی ہے، لیکن اس نے مجھے جہالت کے راستے پر لے جانے کا کام بھی کیا، کیونکہ میں خاموشی اور نادانستہ طور پر ایمان سے بھٹک گئی۔جب میں نے ایسے ماحول میں کام جاری رکھا جو مسلسل میرے ایمان میں دخل دے رہا تھا، تو میرے مذہب کے ساتھ میرا رشتہ خطرے میں پڑ گیا تھا لیکن میں اس بات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنا کام کر رہی تھی اور خود کو اس بات کے لئے منا رہی تھی کہ جو میں کر رہی ہوں وہ سب صحیح ہے،اس سے مجھے فرق نہیں پڑ رہا ہے لیکن میری زندگی سے برکت مکمل طور پر ختم ہو گئی،برکت صرف اپنی زندگی کی خوشی اور اچھی زندگی کی ہی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ زندگی میں جموداورسکون سے بھی منسلک ہے۔میں مسلسل اپنی روح سے جنگ لڑ رہی تھی اور اپنے ایمان کی ایک صاف اور مستحکم تصویر اپنے ذہن میں بٹھانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ایسا کرنے پر میں نے ایک بار نہیں بلکہ 100 بار بری طرف ناکامیاب ہوئی،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اپنے فیصلے پرٹکے رہنے کے لیے میں نے کتنی جنگ کی ہے لیکن آخر میں میں ہمیشہ اس بات پر آکر رک جاتی ہوں کہ میں خودکوبدلوں گی، میں جلد ہی خود کو بدلوں گی۔